19 اکتوبر 2023 - 16:54
مڈغاسکر کا رسول اعظم(ص) مرکز کا افتتاح

مڈغاسکر میں رسول اعظم(ص) مرکز کی افتتاحی مرکز کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق افریقی ملک مڈغاسکر میں رسول اعظم(ص) مرکز کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں مختلف ممالک اور مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی، آیت اللہ رضا رمضانی، آیت اللہ العظمی حجت الاسلام و المسلمین سید جواد شہرستانی، عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کی شورائے عالی کے رکن حجت الاسلام و المسلمین سید مرتضی مرتضی، افریقہ کے شیعہ خوجہ فیڈریشن کے نمائندے امین ناصر، عالمی خوجہ فیڈریشن کے سربراہ کے خصوصی نمائندے نادر جعفر، ایرانی عالم دین حجت الاسلام و المسلمین  محمد فاضل کدکنی، تنزانیہ سے حجت الاسلام و المسلمین حسین صولت عبدالرحمن، نیروبی کے خوجہ شیعہ جماعت کے سربراہ زہیر ذوالفقار، کویت سے الحاج عبدالکریم ابو یوسف، اور الحاج ناصر جاسم حسن الصیاق اور عمان سے الحاج مصطفی محسن اللواتی اس تقریب کے خصوصی مہمان تھے۔ 

اس تقریب کے آغاز میں کلام اللہ مجید کی تلاوت اور قرآنی پروگرام پیش کیا گیا، بعدازاں بچوں نے ترانہ "سلام یا مہدی" پیش کیا۔ مہمان خصوصی نے خطاب کیا.

مڈغاسکر کے رسول اعظم(ص) مرکز کے ڈائریکٹر شیخ حنیف نے اس تقریب میں مختلف ممالک کے مخیر حضرات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے زمین کی خریداری اور مرکز کی عمارت کی تعمیر میں مدد پہنچائی۔

حجت الاسلام و المسلمین مرتضی مرتضی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قرآن و عترت سے تمسک اور ان کا دامن تھامنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے جب حجۃ الوداع کے موقع پر غدیر کا خطبہ دیا تو حاضرین سے فرمایا کہ غائبان کو مطلع کریں، ہم اس زمانے میں ان ہی غائبین میں سے تھے، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مدرسے اور تعلیمات سے آشنا ہوئے، اور ہمیں اس راستے پر گامزن رہنا چاہئے۔

انھوں نے کہا: آیت اللہ العظمی سیستانی فرماتے ہیں کہ "ہمیں سنیوں کو برادر نہیں کہنا چاہئے، بلکہ کہنا چاہئے کہ وہ ہماری جان ہیں"، یہ تاکید ہے اس بات پر کہ ہم صرف اتحاد و یکجہتی سے اپنے اعلی مقاصد تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس تقریب کے آخر میں سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی، آیت اللہ رضا رمضانی نے تقریب کے آخر میں نے ان تمام مراجع تقلید کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے دنیا بھر میں اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات کو فروغ دیا۔

انھوں نے کہا: خدائے متعال نے ہمیں عدل اور احسان پر مامور کیا ہے اور اور عدل کا احسان اور احسان کا رواج پوری انسانیت کی آرزو ہے۔ خدائے متعال نے اپنے تمام انبیاء کو مبعوث فرمایا کہ وہ اپنے معاشروں میں عدل قائم کریں اور انسانیت کو عظمت و کرامت تک پہنچا دیں۔ یہ مرکز اور انسٹی ٹیوٹ رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے نام سے موسوم ہے؛ اور وہ پیغمبر ہیں جنہیں اللہ نے عظمت و کرامت کو عملی صورت دینے کے لئے مبعوث فرمایا۔ چنانچہ سب کو انسانی اور الہی(()) اقدار کے قیام کے لئے کوشاں رہنا چاہئے اور حقیقی تقوی(()) پر فائز ہو جائیں۔

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے مزید کہا: اہل بیت(ع) کے معارف، سب محاسن اور خوبصورتیاں ہیں، اور یہ معارف آج کی دنیا کے اسلام کی طرف راغب ہونے کے لئے ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم آج کی دنیا کوعقیدے، اخلاق اور تشخص اور شناخت کے بحران کا سامنا ہے؛ اہل بیت (‏علیہم السلام) کے معارف پوری انسانیت کو یہ تشخص عصا کر سکتے ہیں۔ آج کی انسانی برادری سنہری قواعد کی پیاسی ہے۔ جو کچھ قرآن اور کلام اہل بیت(ع) میں ہے، سنہری قواعد میں شامل ہے، اور پوری انسانیت آج ان قواعد کا خیر مقدم کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110